Why is Gold So Expensive and Valuable?

اردو میں پڑھیں
why-is-gold-so-expensive-and-valuable

سونا اتنا مہنگا اور قیمتی کیوں ہے؟

سونا ایک انتہائی نرم دھات

سونا ایک نرم سنہری دھات ہے۔ یہ بھاری کیمیائی عناصر میں سے ایک ہے۔ اس دھات کا صرف ایک کیوبک فٹ 1200 پاؤنڈز وزن رکھتا ہے۔گولڈان دھاتوں میں سے ایک ہے کہ جن پربا آسانی کام کیا جاسکتا ہے۔ سونے کو باآسانی کسی بھی شکل میں ڈھالا جاسکتا ہے، ایک اونس یا ایک گرام گولڈ کے 1/25 حصہ کو کوٹ کر 6 مربع فٹ پر پھیلایا جاسکتا ہے۔

قیمتوں کا تعین

سرمایہ کاروں اور مالیاتی ماہرین سے سب سے زیادہ عام پوچھا جانے والا سوال ہے کہ "سونا اتنا مہنگا کیوں ہے؟"۔ قیمتیں کسی ایک تنظیم کی جانب سے مقرر نہیں کی جاتیں، بلکہ ایک معدنیات کی پیداواری لاگت (زمین سے نکالنے اور صاف کرنے کی) اور لوگ اس کی کیا قیمت ادا کرنے کیلئے تیار ہیں کے درمیان توازن رکھ کر مقرر کی جاتی ہیں۔ گولڈ بہت نایاب ہے اور اس کی پیداوار پر نسبتاً کافی لاگت آتی ہے، لہٰذا اس کی بیس پرائس یعنی ابتدائی قیمت کا کافی زیادہ ہونا اشد ضروری ہے۔

اگر بہت سے لوگ سونے کا استعمال کرنا چاہتے ہیں اور خریدنے کی کوشش کررہے ہیں، تو انہیں گولڈ کیلئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرنا پڑے گا، اور یہی چیز سونے کی قیمت میں اضافے کا باعث بن جائے گی۔ اگر سونے کی طلب و رسد میں کمی ہوگی تو سونے کی قیمت میں بھی کمی واقع ہوگی۔ گزشتہ سالوں میں سونے کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے اور پچھلے چند ماہ سے اس کی قدر میں مسلسل اضافہ ہوتا آرہا ہے، جوکہ لوگوں کو حیران و پریشان کررہا ہے کہ آیا کہ یہ سونا خریدنے کا موزوں ترین وقت ہے یا نہیں۔

سونے کے مہنگا ہونے کی وجوہات

لوگ ہمیشہ سونے کو اعلیٰ قدر کیوں گردانتے ہیں، اس کی یہاں تین وجوہات بتائی جارہی ہیں: اس کی خوبصورتی، اس کی افادیت و اہمیت اور اس کا نایاب ہونا۔ اگر لوہا بھی سونے کی طرح نایاب ہوتا تو شاید لوہا بھی صرف خزانے کے طور پر استعمال کیا جاتا۔

گولڈ سٹینڈرڈ

پندرہویں صدی تک سونا دنیا کی تقریباً تمام کرنسیوں کیلئے پیمائشی چھڑی تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ڈالرز، فرانس کے فرانکس، جرمنی کے یوروز وغیرہ کی گولڈ کے لحاظ سے ایک مقررہ قیمت تھی۔ کسی بھی وقت کرنسیوں کو سونے میں تبدیل کیا جاسکتا تھا۔ یہ نظام گولڈ سٹینڈرڈ کے نام سے جانا جاتا ہے اور جو کہ اب زیرِ استعمال نہیں ہے، مگر اب بھی بین الاقوامی تجارت میں سونا اہم سمجھا جاتا ہے۔

سونے کی افادیت و استعمالات

اکثر دوسری دھاتوں کے برعکس، گولڈ پر ہوا منفی انداز میں اثر انداز نہیں ہوتی۔ گولڈ کی آب و تاب غیریقینی طور پر برقرار رہتی ہے یہ خراب نہیں ہوتا۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ اسے اعلیٰ قدر سمجھتے ہیں۔ سونا کیمیائی طور پر کم فعال دھاتوں میں سے بھی ایک ہے۔ یہ صرف چند ایک ایسڈز کے ساتھ ری ایکٹ کرتا ہے۔ سونے کا سب سے زیادہ عام استعمال ہمیشہ پیسے کے طور پر ہی ہوتا رہا ہے۔ اگرچہ سونے کی دھاتوں کے علاوہ دوسری دھاتوں کے سکّے بھی بنائے جاتے رہے ہیں، لیکن جو قدر و قیمت سونے کے بنے سکّوں کی ہے وہ دوسری دھاتوں سے بنے سکّوں کی کبھی نہیں رہی۔ لوہے کی دھات کے بنے سکّے زنگ آلود ہوسکتے ہیں، ان کے وزن میں کمی آسکتی ہے سونے کے نہیں کیونکہ سونا ان دھاتوں میں سے ایک ہے جو کہ آسانی سے آکسائیڈائز نہیں کرتیں اسلئے اسکے سکّوں کا وزن مسلسل برقرار رہتا ہے۔ تانبے کی دھات کے بنے سکّے بھی اچھے نہیں ہوسکتے کیونکہ جب وہ آکسیڈائز کرتے ہیں تو ان کے وزن میں کچھ اضافہ ہوجاتا ہے۔ تانبے کی دھات کا وزن اس چیز پر منحصر ہے کہ یہ کتنی مدت پرانی ہے، کتنا عرصہ ہوا میں رہی ہے اور کاپر آکسائیڈ میں بدل رہی ہے۔

لہٰذا سونا نایاب ہے، مستحکم حجم رکھتا ہے، اور ہزاروں سال پہلے بنیادی کرنسی کے طور پر استعمال کیے جانے کے قابل سمجھا جاتا تھا۔ (درحقیقت 1970 کی دہائی تک، جب امریکی صدر نکسن نے امریکی ڈالر کی قیمت اور امریکی سونے کے ذخائر کی قیمت کے درمیان براہ راست رابطہ بند کردیا تھا)۔

سونے کے بہت سے استعمالات ہیں۔ تقریباً ہر سال سونے کی کُل پیداوار کا 10 فیصد زیورات بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ دندان سازی میں بھی گولڈ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ چونکہ گولڈ بجلی اور حرارت کا ایک بہترین موصل ہے، اس لئے اسے دوسری دو یا زیادہ مختلف دھاتوں کے ساتھ ملا کر کچھ مخصوص قسم کے برقی کنکشن میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

سونے کے ذخائر

سونے کی کان کنی کا نصف سے تھوڑا زائد حصہ جنوبی افریقہ سے حاصل کیا جاتا تھا۔ 1886ء میں دنیا کے امیر ترین سونے کے ذخائر یہیں سے دریافت کئے گئے تھے۔ گھانا میں بھی سونے کی کان کنی کی جاتی ہے۔ یہ ملک سونے کی برآمدات سے بہترین زرمبادلہ حاصل کرنے والا ملک تھا۔ مگر اب پچھلے چند سالوں سے چین، روس، کینیڈا وغیرہ سونے کی پیداوار میں مقبول ہیں۔

حرفِ آخر

سونے کا نایاب اور خوبصورت ہونا اس کی قیمت میں اضافے کا باعث ہے، کیونکہ نایاب چیزیں ہی زیادہ قابل قدر ہوتی ہیں۔

Copyrights © goldrate.pk All rights Reserved.