Rising Gold Prices Killing Wedding Hopes in Pakistan

اردو میں پڑھیں
rising-gold-prices-killing-wedding-hopes

The gold prices are soaring at an unimaginably and unacceptably high rate. As the precious metal is traditionally and inseparably linked with marriages, the rising gold prices are killing wedding hopes in Pakistan. Would you believe, the gold price soared from $1250 to $1350 an ounce within a month in September 2017?

Presently, the price of gold in Pakistan is around 500 dollars per tola – a huge amount. Such a high price tag takes the metal beyond the reach of low-income parents. A person earning 40,000 to 50,000 rupees a month finds it extremely difficult to arrange Rs. 200,000 for the general arrangements of the marriage of their son or daughter. How will they buy such an expensive jewelry? And what will be the fate of those who earn just 10,000 to 20,000 rupees a month?

Though a menace, dowry plays an important role in the acceptance or cancellation of marriage proposals. That is why, in the traditional setup of the subcontinent, some mothers start collecting dowry for their daughters in their childhood.

Gold is considered as the most essential ingredient of the dower. It is not only gifted by the parents but also demanded from the in-laws. Usually, the in-laws are expected to arrange at least 5 tolas of golden jewelry for their daughter-in-law. Depending on their capacity, a bit less quantity is also accepted.

It is heart-wrenching to note that, sometimes, the provision of a certain quantity of gold is imposed as a precondition for the acceptance of marriage proposal. At the same time, it is also a common practice that the marriages are delayed for an unusually long period to make arrangement for jewelry. Often, the troublesome delays also lead to the cancellation of the already agreed and planned weddings.

So, What Should be the Solution?

The rising gold pricing is an international phenomenon and it is not under the control of a single country or individual. So, what should be the possible solution to the painful scenario of ‘rising gold prices killing wedding hopes in Pakistan?’ An option is to buy gold by taking loan from an individual or a financial institution. But it may put you in great trouble.

So, the only viable option is to educate the family members and relatives (or public in general) to leave obsession with gold and go for an alternative. Silver and artificial jewelry are inexpensive and easily affordable alternatives to gold.

Shah Mubarak Abroo, one of the founding fathers of Urdu poetry and born during the reign of the Mughal Emperor Aurangzeb, rejects the need for jewelry for a girl who is inherently beautiful. He has written a beautiful couplet in Urdu:

نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا دیوے
کہ اُس کو بدنما لگتا ہے ، جیسے چاند کو گہنا

This couplet is commonly (rather wrongly) read and heard as:

نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی
کہ جیسے خوش نما لگتا ہے ، دیکھو چاند بن گہنے

So, the focus should be on the enhancement of natural beauty to which there is no alternative in the world.

سونے کی قیمتوں میں اضافہ - پاکستان میں شادی کی امیدوں کا قتل

ہر کوئی جانتا ہے کہ سونا ایک قیمتی دھات ہے، یہ دولت ، خوشحالی ، محبت اور امید پروری کو ظاہر کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں اسی سوچ کے ساتھ ہی سونے کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ بیٹی کے پیدا ہوتے ہی والدین جلد از جلد سونے کے زیورات خریدنے کیلئے بچت شروع کردیتے ہیں تاکہ سونا بیٹی کو جہیز میں تحفے کے طور پر دے سکیں (پڑھیں: سونے کو شادی میں تحفے کے طور پر کیوں دیا جاتا ہے؟ )۔ لیکن سونے کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پرانے رسوم و رواج کو قائم رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔

سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پاکستان میں شادی کی روایات پر اپنے منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ جیسا کہ سونے کی قدر میں اضافے کو دیکھتے ہوئے کچھ جوڑوں کو اپنی شادی ملتوی کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے حتی کہ منسوخ بھی۔ کیونکہ ان کی فیملیز ان کیلئے مناسب جہیز اکٹھا نہیں کرسکتی ہیں ( ذرائع: ٹریبیون.کام.پی کے )۔

ریڈیو فری یورپ / ریڈیو لبرٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق، مختلف علاقوں مثلاً کانجو، ملک کی شمال مغربی وادیء سوات میں، سونا نہ ہونے کا مطلب شادی کا نہ ہونا ہے۔ کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں رسم و رواج کو تمام چیزوں پر برتری حاصل ہے۔

گاؤں کی ایک رہائشی شاہناز بی بی کا کہنا ہے کہ " میرے دو بھائی منگنی شدہ ہیں جن کی شادی جلد کرنا چاہ رہے ہیں مگر سونے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہمیں دونوں کی شادی ملتوی کرنا پڑ رہی ہے۔ میرے کزن کی شادی بھی اسی وجہ سے منسوخ کردی گئی ہے"۔

سونے کی قیمت گلوبل مارکیٹ 1200 ڈالر فی اونس سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔ پاکستان میں یہ قیمتی دھات تولہ کے حساب سے پیمائش کی جاتی ہے۔ اب پاکستان میں ایک تولہ سونے کی قیمت تقریباً 500 ڈالر ہے۔

روایت ہے کہ خاندان کو اپنے بچوں کی شادی کیلئے کئی تولہ سونا اکٹھا کرنا چاہیے، لیکن اوسط تنخواہوں کے ساتھ سونا ایک ماہ میں تقریباً 100 ڈالر مہنگا ہوچکا ہے، حتیٰ کہ شاہناز بی بی کی طرح درمیانی آمدنی والے خاندانوں کیلئے سونے کی یہ قیمتیں ناقابل برداشت ہیں۔

ایک مارکیٹ سروے کے مطابق، اگر ایک شخص 40 سے 50 ہزار روپے ماہانہ کماتا ہے تو وہ اپنی بیٹی کو 50 سے 80 ہزار روپے کے فرنیچر، 60 سے 70 ہزار روپے کے الیکٹرونک کے سامان، 40 سے 50 ہزار روپے کے دلہن کے ملبوسات بمعہ عروسی لباس، ہال بکنگ اور دعوت طُعَام پر 2 سے ڈھائی لاکھ روپے خرچ کے علاوہ ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے کی جیولری ہی دے سکتا ہے۔ مزید رسمِ حناء پر تقریباً 25-30 ہزار کی رقم ہی خرچ کرسکتا ہے۔

اگر ایک شخص 20 ہزار سے 30 ہزار روپے ماہانہ کماتا ہے تو وہ دوسری اشیائے ضروریات بطور جہیز دینے کے ساتھ ساتھ صرف 60 سے 80 ہزار روپے کی جیولری ہی دے سکتا ہے۔ مگر دوسری طرف جو شخص صرف 10 سے 15 ہزار ہی ماہوار کما سکتا ہو وہ اپنی بیٹی کی شادی کے اخراجات ہی بمشکل ادا کرپائے گا کجا کہ وہ اپنی بیٹی کو کوئی سونے کا زیور دے پائے ( ذرائع: ڈان.کام )۔

پاکستان میں یہ صورتحال ہو چکی ہے کہ جہاں جدی پشتی رئیس خاندان اپنی بیٹیوں کو شادی پر آنکھوں کا خیرہ کردینے والے جہیز کے ساتھ ساتھ بیش بہا قیمتی زیورات دیتے ہیں وہیں بزنس کلاس اپنی بیٹی کی شادی کیلئے صرف جیولری پر ہی 6 تا 8 لاکھ خرچ کردیتی ہے۔

شاہناز بی بی کا کہنا ہے کہ "میرے بھائیوں کو اپنی دلہنوں کو جہیز/بری کیلئے 10 تولہ سونا دینا ہوگا، یہ بہت زیادہ ہے جو کہ ہماری مالی حالت کیلئے ناقابل برداشت ہے"۔

ان کا آبائی وطن سوات جو کہ خیبر پختونخواہ کے شمال مغربی صوبہ میں ایک ضلع ہے، حالیہ برسوں میں پاکستانی طالبان کے عسکریت پسندوں اور سرکاری افواج اور تباہ کن سیلاب کے درمیان جھڑپوں کے باعث بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ شاہناز بی بی نے مزید کہا کہ ہم پہلے ہی بہت کچھ سہہ چکے ہیں، ہم غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔

سونا پاکستان میں رُتبے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جہاں دلہن کا سنگھار سونے کے زیورات کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ رواج کے مطابق، شادی سے تھوڑی دیر یا کچھ دن پہلے، والدین اپنی بیٹی کو دیے جانے والے سونے کے زیورات اور جہیز مہمانوں کو دکھاتے ہیں۔ شادی کے بعد، عروسی لباس میں ملبوس سونے کے زیورات سے سجی دلہن اپنے شوہر کے گھر میں داخل ہوتی ہے، سونے کے زیورات صرف آرائشی مقاصد کیلئے ہی استعمال نہیں کیے جاتے بلکہ یہ خاندن کے مستقبل کیلئے سرمایہ کاری کے طور پر بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔

سوات کی روایت کے مطابق، دلہن اور دلہا دونوں کے والدین کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ شادی میں زیادہ سے زیادہ سونا دیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ سونا نقد رقم یا جائیداد سے کہیں زیادہ قابل اعتماد اثاثہ ہے۔ تاہم، امیر خاندانوں میں، عام طور پر یہ دلہن والے زیادہ سونا اپنی بیٹی کو اس کی شادی پر دیتے ہیں۔

محض سونے کے زیورات کا تحفہ دینا ہی کافی نہیں بلکہ ان کے وزن زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ نقلی یا سونے کا پانی چڑھے زیورات قبول نہیں کیے جاتے کیونکہ سسرال والوں کو یہ اجازت ہوتی ہے کہ وہ پہلے ہی ماہرین سے تحفے کے خالص ہونے کی تصدیق کروالیں۔

جب بچوں کی شادیوں کیلئے سونا خریدنے کا معاملہ ہو تو والدین خاندان اور پڑوسیوں میں ناک اونچی رکھنے کا سوچتے ہیں اور ان کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کی شادی میں خاندان کے مقابلے میں وہ زیادہ سے زیادہ سونے کے زیورات بطور گفٹ دیں۔ وہ لوگ جو ایسا نہیں کرسکتے وہ اپنی اس شیخی کو قائم رکھنے کیلئے کسی سے ادھار لینے یا بیرون ملک کام کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

کئی سالوں سے سیاستدان اور پاکستانی میڈیا جہیز کی روایت کو غیر ضروری حد تک فضول خرچی قرار دیتے ہوئے تنقید کر رہے ہیں، کہ یہ خاندانوں کو قرضوں اور بدحالی میں مبتلا کردیتی ہے۔ کچھ مقامی مولویوں نے زیادہ سے زیادہ سونا خریدنے جیسی فضول خرچی کی مخالفت کی ہے کہ پیغمبر ؐ نے جہیز کے تصور کی حمایت نہیں کی تھی۔

سیاستدانوں اور مولویوں کے لیکچر جہیز اور سونے کے زیورات دینے کی روایت کو ختم کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں، مگر اب لگتا ہے کہ سونے کے ریٹس میں اضافے کی وجہ سے پاکستانی خاندان اپنی اس روایت کو برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔

کچھ سال پہلے ضلع سوات کے خوشحال والدین اپنے بچوں کو ان کی شادی کیلئے 30 تا 50 تولہ سونا دیا کرتے تھے مگر اب صورتحال بدل چکی ہے سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے اب انہیں 8 سے 12 تولہ دینے تک محدود کردیا ہے۔ غریب خاندان جہاں روایتی طور پر 2 سے 3 تولہ سونا دیا کرتے تھے اب وہ بھی بمشکل صرف ایک یا ڈیڑھ تولہ سونا دینے کے ہی قابل ہوسکیں گے۔

پشاور جیولر عظمت اللہ خان کا کہنا ہے کہ سونے کی قدر میں اضافہ سونے کے تاجران کے لئے بہتر نہیں ہے کیونکہ گاہک ان کی دکان پر آتے ہیں مگر قیمتوں میں اضافے کے باعث ناامید ہوکر خالی ہاتھ لوٹ جاتے ہیں۔

عظمت اللہ خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ "غریب لوگ اپنے ذہن میں واضح بجٹ کے ساتھ شادی کیلئے 5 سے 6 تولہ سونا خریدنے ہماری دکان پر آتے ہیں۔ جب ہمیں انہیں بتاتے ہیں کہ اس کی قیمت 3,00,000 روپے سے زائد ہوگی تو وہ گھبرا کر دکان سے چلے جاتے ہیں"۔

کانجو میں موجود ایک گاؤں کی لڑکی کائنات نے بتایا کہ" سونے کے زیورات پر مشتمل جہیز کی روایت غریب خاندانوں کیلئے ایک بے حد بھاری بوجھ ہے اور جو کہ کئی زندگیوں کو تباہ کررہی ہے۔ کائنات کی بہن کی شادی بھی اسلئے منسوخ ہوگئی کہ ان خاندان اس روایت کو برقرار رکھنے کا اہل نہیں ہے۔ ہم مجبور ہیں، ہم اپنا گھر نہیں چھوڑ سکتے، اور میرے والد اس صورتحال سے نہیں نمٹ سکتے جس کی وجہ سے میری بہن کی قسمت پر بہت اثر پڑا ہے"۔

اس طرح کی صورتحال کودیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ سونے کے ریٹس میں بتدریج اضافے کے باعث یہ مقامی روایت اکثر خاندانوں کو اپنی ساکھ کو بچانے کیلئے بہت مہنگی پڑرہی ہے۔ گذشتہ عشرے میں سونے کی قیمتوں میں بین الاقوامی سطح پر 100 فیصد اضافہ ہوچکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں کے اکثر خاندانوں میں جہاں زیادہ سونا دینا بطور روایت اولین ترجیح سمجھا جاتا ہے اور شادی صرف ایک فنکشن کے طور پر نہیں بلکہ کھلم کھلانمائش اور اپنے رُتبے کا اظہار کرنے کیلئے منائی جاتی ہے، وہاں شادی کی امیدیں دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔

Copyrights © goldrate.pk All rights Reserved.